ابنا: ارنا کی رپورٹ کے مطابق جیک اسٹرا نے اسکائي نیوز سے گفتگو میں کہا کہ برطانیہ کو ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار کرلینے چاہیں اور مغرب کو ماضی کی غلطیوں کو دوبارہ تکرار نہیں کرنا چاہیے۔ جیک اسٹرا نے کہا کہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو چاہیے کہ وہ ایران کی اہمیت کو تسلیم کرلیں کیونکہ انہیں ایران کا تعاون درکار ہے۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ برطانوی وزیر ویلیم ہیگ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ واضح رہے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے بوڑھے سامراج کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کی بنا پر اسلامی جمہوریہ ایران اور برطانیہ کے تعلقات شدید نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں۔ برطانیہ نے تہران میں امریکہ کے جاسوسی کے اڈے پر انقلابی طلباء کے قبضے کے بعد امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے ایران سے سفارتی تعلقات توڑلئے تھے۔ برطانیہ کی مخاصمانہ پالیسیاں جاری رہنے کےپیش نظر مجلس شورائے اسلامی نے دوہزار گيارہ میں برطانیہ سے تعلقات میں کمی کا بل پاس کرکے ناظم الامور تک تعلقات کی سطح کم کردی۔ اس کے بعد بھی برطانیہ باز نہیں آیا تھا اور تہران میں اس کا سفارتخانہ جاسوسی کے اڈے اور ایران مخالف سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل ہوچکا تھا۔ ان امور کے پیش نظر ایران اور برطانیہ کے درمیاں سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
14 جون 2013 - 19:30
News ID: 429922
برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے ایران کے ساتھ برطانیہ کے سفارتی تعلقات کی برقراری کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔